متعلقہ بیماری کا نام لکھ کر تلاش کریں

زیتون کے تیل میں تھوڑا سا نمک ملا کر آپ اس سے ایسا فائدہ اٹھاسکتے ہیں کہ جان کر آپ کے لئے یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

Joron ke dard ka ilaj-joron ke dard ka nuskha-joroon ke dard ka tel
اگر جسم کے کسی حصے میں درد ہوتو انسان بے بس ہوجاتا ہے اور اس سے نجات کے لئے کئی طرح کے ٹوٹکے بھی آزماتا ہے یکن اگر آپ یہی کام زیتون کے تیل میں نمک ملاکر کریں تو آپ کو سکون مل جائے گا۔
ایک برتن میں دس بڑے چمچ نمک اور20بڑے چمچ زیتون کے تیل کے ڈالیں اور اسے اچھی طرح سیل کرکے دو دن تک پڑا رہنے دیں۔اب اس تیل سے ہر صبح متاثرہ حصے کی مالش کریں اور صرف 10دن میں آپ کی تمام دردیں ٹھیک ہوجائیں گی۔

زیتون کے تیل اور شہد کو ملا کر جسم کے اس حصے پر لگانے سے ایسا فائدہ ملے گا کہ آپ یہ کام روز کریں گے

اگر آپ اپنے رکھے اور بے جان بالوں کی وجہ سے پریشان ہیں اور ہر طرح کا علاج کرچکے ہیں لیکن افاقہ نہیں ہورہا تو پریشان نہ ہوں کیونکہ آج ہم آپ کو ایک ایسا ماسک بتائیں گے جس کے استعمال سے آپ کے بال قدرتی طور پر چمکدار، خوبصورت اور لمبے ہوں گے۔
اجزاء
ایک چائے کا چمچ دارچینی پسی ہوئی
آدھا کپ زیتون کا تیل
ایک چائے کا چمچ شہد
بنانے کا طریقہ
زیتون کوتیل کو پین میں ڈال کر چولہے پر رکھ دیں، جب تیل گرم ہونے لگے تو اسے اتار کر ڈونگے میں ڈال لیں،اب اس میں دارچینی ڈالیں اور ساتھ ہی شہد بھی ملادیں۔ اسے اچھی طرح حل کریں اور ٹھنڈا کرلیں۔اب اس محلول کو اپنے بالوں کی جڑوں میں لگاکر 15منٹ تک لگارہنے دیں۔ یہ ماسک روزانہ ایک ہفتہ تک استعمال کریں اور واضح فرق دیکھیں۔

وہ ایک قدرتی چیزجو آپ کے بالوں کو سفید ہونے دے نہ کبھی گرنے دے

کچھ لوگوں کے بال وقت سے پہلے ہی سفید ہوجاتے ہیں اور کچھ کے جلد گر جاتے ہیں لیکن اگرآپ سر میں ناریل کا تیل لگائیں تو اس طرح کے مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔
ناریل کے تیل میں کاربوہائیڈریٹس،وٹامنزاور منرلز پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ سر کی جلد کے لئے بہت ہی زیادہ مفید ہے اور سر میں موجود خشکی،جوﺅں اورروکھا پن کو ٹھیک کرتا ہے۔اگر آپ ناریل کے تیل میں کڑی پتا ڈال کر ابالیں اور اسے سر میں لگائیں تو اس کی وجہ سے بال گنا بند ہوجائیں گے۔اسی طرح اگر لیموں پانی اور ناریل کے تیل کو ملاکر سر میں لگانے سے بھی بال گرنا کم ہوجائیں گے۔
ناریل کے تیل کو سر میں لگانے سے نمی بخارات بن کر نہیں اڑتی اور سر تر رہتا ہے جس کی وجہ سے بال روکھے اور بے جان نہیں ہوتے۔جن لوگوں کو سر میں بے پناہ پسینہ آتا ہے اگر وہ سر میں ناریل کا تیل لگائیں تو ان کا سر ٹھنڈا رہے گا اور پسینہ آنا بھی کم ہوجائے گا۔
اگرآپ سر میں سفید بالوں کی وجہ سے پریشان ہیں تو رات کو سونے سے قبل ناریل کے تیل کو تھوڑا سا گرم کریںاور اس میں نیاز بو(لیونڈر)کا تیل شامل کریں۔اس تیل کے مکسچر کو رات کو سر میں لگائیں اور اگلے دن دھولیں۔آپ اس عمل کو تب تک دہراسکتے ہیں جب تک آپ کو مطلوبہ نتائج نہ مل جائیں۔

کیلوں کے استعمال کا ایسا نسخہ جو آپ کو شدید ترین کھانسی اور سینے کی بیماریوں سے فوری نجات دلادے

آپ نے کیلوں کوپیٹ ٹھیک کرنے کے لئے تو استعمال کیا ہوگا لیکن آج ہم آپ کوکیلوں کاایک ایسا استعمال بتائیں گے کہ جس کی وجہ سے آپ شدید ترین کھانسی اور سینے کی بیماریوں سے فوری نجات حاصل کرسکتے ہیں۔
اجزاء اوربنانے کا طریقہ
دو کیلے درمیانے سائزکے
400ملی لیٹر ابلاہوا پانی
دو چمچ شہد یاچینی(شہد کی صورت میں اسے پانی ابالنے کے بعدڈالیں)

مزید جانئے: وہ ایک قدرتی چیزجو آپ کے بالوں کو سفید ہونے دے نہ کبھی گرنے دے
کیلوں کو کسی چمچ یا کانٹے کے ساتھ اچھی طرح پیس لیں،چمچ اور کانٹا لکڑی کا بنا ہو۔اب اس میں چینی ڈالیں اوراچھی طرح پیسیں اوراگرشہدڈالنے کا ارادہ ہوتو شہد کوآخرمیں ڈالیں۔اب اس میں ابلا ہوا پانی ڈالیں اور30منٹ تک پڑا رہنے دیں،اس کے بعد چھان اس محلول کودن میں چار بار استعمال کریں۔کچھ ہی دنوں میںآپ کی کھانسی ختم ہوجائے گی۔

صحت مند زندگی کیلئے قد کے حساب سے آپ کا وزن کتنا ہونا چاہیے؟ انتہائی مفید معلومات جانئے

اگرآپ کا وزن 65کلوگرام اور قد 5فٹ3انچ ہے اور آپ سمجھ رہے ہیں کہ یہ آئیڈیل ہے تو آپ بالکل غلط سمجھ رہے ہیںکیونکہ ابھی بھی آپ کاوزن ہونہیں جو ایک صحت مند آدمی کا ہوناچاہیے،آئیے آپ کوبتاتے ہیں کیسے۔

مزید جانئے: کیلوں کے استعمال کا ایسا نسخہ جو آپ کو شدید ترین کھانسی اور سینے کی بیماریوں سے فوری نجات دلادے 
عموماًآئیڈیل وزن دیکھنے کے لئے ایک طریقہ استعمال کیا جاتاہے جسے باڈی ماس انڈیکس(BMI)کہا جاتاہے لیکن ماہرین کا کہناہے کہ تمام انسانوں پر اس کااطلاق نہیں ہوسکتا جس کی وجہ ہرانسان کی ہیئت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔یاد رکھیں کہ وزن اور صحت ایک ہی سمت میں نہیں جاتے لہذا ضروری ہے کہ صحت مند جسم کےلئے غذا کا خیال رکھا جائے۔جب بھی آپ وزن کم کرنے کےلئے ڈائٹنگ کا سہارا لیں گے تو اس کی وجہ سے آپ کے مسلز بھی کمزورہوں گے اور یہ کوئی اچھا طریقہ نہیں۔تاہم آپ ذیل میں دئیے گئے چارٹ سے اپنے وزن اور قد کاحساب لگا سکتے ہیں:

وہ 3 غذائیں جو مردوں کو بھرپور ازدواجی زندگی کیلئے ضرور استعمال کرنا چاہئیں، ڈاکٹروں نے انتہائی مفید مشورہ دے دیا

مردانہ کمزوری ایک ایسا جھانسہ ہے جس کا شکار کسی بھی مرد کو کیا جا سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں نیم حکیموں کے کاروبار چمک رہے ہیں۔ اس حوالے سے مارکیٹ میں مہنگی ادویات بھی دستیاب ہیں مگر ہاورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مرد بہتر خوراک استعمال کریں تو انہیں کسی دوا کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ماہرین نے تحقیق کے بعد کھانے کی3 ایسی چیزیں بتائی ہیں جو مردوں کی ازدواجی زندگی کو خوشگوار بناتی ہیں۔ 
کافی
کافی کئی طریقوں سے انسان کو توانائی دیتی ہے۔ اس سے نہ صرف انسان کانظام انہضام اور نظام دوران خون بہتر ہوتا ہے بلکہ اس سے مسرت کے لمحات طویل تر ہو جاتے ہیں۔
کستورا مچھلی
یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ کستورا مچھلی جوش کو بڑھاتی ہے مگر بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ اس میں زنک اور وٹامن بی 6وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو مرد میں ٹیسٹاسٹرون نامی ہارمون پیدا کرتے ہیں، جس سے مردانہ طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔
پیازاور لہسن
پیاز اور لہسن میں فائیٹوکیمیکل(Phytochemical) پایا جاتا ہے جسے ایلیسین (Alicin) بھی کہتے ہیں۔ یہ کیمیکل خون کو پتلا کرتا ہے اور اس کی جسم میں گردش کو بہتر بناتا ہے اس لیے یہ دونوں چیزیں بھی مردکی ازدواجی زندگی خوشگوار بنانے کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتی ہیں۔
برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر ایڈین کیسیڈی کا کہنا تھا کہ 148یہ تحقیق فینالک مرکبات اور مردانہ طاقت کے درمیان تعلق دریافت کرنے کے حوالے سے پہلی تحقیق ہے۔ درمیانی عمر اور بڑھاپے میں مردوں کو عموماً مردانہ کمزوری کا مسئلہ لاحق ہوجاتا ہے۔ جو لوگ زندگی میں اوپر بتائی گئی اشیاءباقاعدگی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں ان کو اس مسئلے کا سامنا نہیں کرتا پڑتا۔

قدرتی تحفہ جو بالوں کو گرنے اور سفید نہ ہونے دے

کچھ لوگوں کے بال وقت سے پہلے ہی سفید ہوجاتے ہیں اور کچھ کے جلد گر جاتے ہیں لیکن اگرآپ سر میں ناریل کا تیل لگائیں تو اس طرح کے مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔
ناریل کے تیل میں کاربوہائیڈریٹس،وٹامنزاور منرلز پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ سر کی جلد کے لئے بہت ہی زیادہ مفید ہے اور سر میں موجود خشکی،جوﺅں اورروکھا پن کو ٹھیک کرتا ہے۔اگر آپ ناریل کے تیل میں کڑی پتا ڈال کر ابالیں اور اسے سر میں لگائیں تو اس کی وجہ سے بال گنا بند ہوجائیں گے۔اسی طرح اگر لیموں پانی اور ناریل کے تیل کو ملاکر سر میں لگانے سے بھی بال گرنا کم ہوجائیں گے۔
ناریل کے تیل کو سر میں لگانے سے نمی بخارات بن کر نہیں اڑتی اور سر تر رہتا ہے جس کی وجہ سے بال روکھے اور بے جان نہیں ہوتے۔جن لوگوں کو سر میں بے پناہ پسینہ آتا ہے اگر وہ سر میں ناریل کا تیل لگائیں تو ان کا سر ٹھنڈا رہے گا اور پسینہ آنا بھی کم ہوجائے گا۔
اگرآپ سر میں سفید بالوں کی وجہ سے پریشان ہیں تو رات کو سونے سے قبل ناریل کے تیل کو تھوڑا سا گرم کریںاور اس میں نیاز بو(لیونڈر)کا تیل شامل کریں۔اس تیل کے مکسچر کو رات کو سر میں لگائیں اور اگلے دن دھولیں۔آپ اس عمل کو تب تک دہراسکتے ہیں جب تک آپ کو مطلوبہ نتائج نہ مل جائیں۔

گلے میں درد کا علاج دیسی نسخے

گلے کا دکھنا بخار ہونے کی پہلی علامت ہوتی ہے اور اس کے علاوہ اس کے دیگر ضمنی اثرات بھی پائے جاتے ہیں، اس سے بھی بڑھ کر گلے کا دکھنا کئی شدید بیماریوں کی وجہ بن سکتا ہے۔ قطعہ نظر اس کے کہ گلے کے دکھنے کی کیا وجہ ہے، آپ کو فوری طور پر یہ دیکھنا چاہیے کہ آخر اس درد کی دوا ءکیا ہے اور گلے کے درد ہونے سے کیسے نجات پائی جاسکتی ہے۔ برمنگھم کے ڈاکٹر جنوی لینڈر جو کہ ویمن ہسپتال بوسٹن میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں گلے کے دکھنے کے حوالے سے یہ علاج اور احتیاطی تدابیر تجویز کرتی ہیں۔
-1 آتش انگیزانہ ادویات سے بچیے
گلے کے دکھنے کی بڑی وجہ آپ کی دوائیوں کی الماری ہوسکتی ہے اس لئے کہ اس میں پڑی دوائیوں کے کھانے سے گلہ متاثر ہوسکتا ہے جس سے بچنے کی ضرورت ہے۔ یہ ادویات دراصل درد سے نجات اور آتش انگیز اثرات سے مزین ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر لنڈر تجویز کرتی ہیں کہ ایسی صورت میں آپ Alvie'l یا Aleveنامی ادویات استعمال کریں۔
-2 نمکین پانی کے غرارے
ایک سے زائد تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ گلے کی سوجن کو کم کرنے کے لئے نمکین پانی کے غرارے بہت ہی کار آمد ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف سوجن کو کم کرتی ہے بلکہ پھیلنے والے بیکٹیریا کو بھی روکتی ہیں، ڈاکٹروں کے مطابق ایک گلاس پانی میں آدھا چمچ نمک ملا کر غرارے کرکے اسے افاقہ ہوتا ہے۔
-3 میٹھی گولیاں اور سپرے
منتھول نامی گولی منہ میں ٹھنڈک پیدا کرتی ہے اور اس کے چوسنے سے گلے کی انفیکشن ختم ہوتی ہے اور درد کی شدت میں بھی کمی آتی ہے اس کے علاوہ گلا سپرٹک سپرے بھی بہت اکسیر ثابت ہوتا ہے۔ جو کہ میٹھی گولی کی طرح ٹھنڈک پیدا کرتا ہے اور متاثرہ حصے سے جڑے تمام بیکٹیریا مار بھگاتا ہے۔
-4 کھانسی کا شربت
ظاہر ہے گلہ درد ہے تو کھانسی تو آئے گی تو ایسی صورت میں کھانسی کا شربت لیتے ہیں کوئی حرج نہیں۔ یہ سچ ہے کہ مریض کو کھانسی ہوگی نہیں لیکن گلے میں سوجن کی وجہ سے کھانسی کا دورہ بھی پڑ سکتا ہے تو ایسے میں کھانسی کا شربت بھی گلے کے درد سے بھی نجات دلاتا ہے۔
-5 سیال مادے
ڈاکٹر لینڈر کہتی ہیں کہ گلا خشک ہونے کی صورت میں مریض کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سیال مادوں کا استعمال کرکے یہاں تک کہ اس کے پیشاب کی رنگت بھی ہلکی زرد ہوجائے۔ اس بھاری مقدار میں سیال پینے سے متاثر حصے سے بیکٹیریوں کا خاتمہ وہتا ہے اور یہ میوکس کی تہہ کو بھی گیلا رکھتی ہے۔ جس سے جراثیموں کے خلاف لڑنے کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے، اس ضمن میں ہر طرح کے جوسز اور یخنی بہت ہی مفید ہوتے ہیں۔
-6 چائے
اگر آپ پانی پی پی کر اکتا چکے ہیں تو پھر فوری طور پر چائے کا گرما گرما مگ پی جائیں جس سے گلے کے درد سے نجات ملے گی۔ یہ چائے بلیک، گرین یا سفید پتوں کی بنی ہو یکساں طور پر موثر ثابت ہوتی ہے اس لئے کراس میں آکسی آنٹی اور اکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو انفیکشن کو روکتی ہے۔
-7 چکن سوپ
پرانے نسخوں پر ایک نسخہ چیکن سوپ بھی ہوتا ہے جس سے گلے کے درد سے نجات ملتی ہے۔ ڈاکٹر لینڈر اس طریقہ علاج کو بہت ہی مفید قرار دیتی ہیں۔ یہ سوجے ہوئے گلے کو آرام پہنچتا ہے۔
-8 ہ ایک مٹھائی جو شکر، مکئی کے شیرےسے بنتی ہے۔ اس پر شکر کے سفوف کی تہہ چڑھا دی جاتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والا گودا یعنی گوند دکھتے گلے کے لئے اکسیر کا کام کرتا ہے۔
-9 بیڈ ریسٹ
یہ ایسا طریقہ علاج ہے جس میں دوائی بجائے احتیاط کا دامن پکڑا جاتا ہے اور درد سے نجات پائی جاتی ہے۔ گلے کے درد اور سوجن کی وجہ کولڈ وائرس ہے اور اس کی خوراک وقت سے ملنے والے دیگر وائرس اور بیکٹیریا ہوئے ہیں لہٰذا ان سے بچنے کے لئے ریسٹ یعنی آرام بہت ضروری ہے۔
-10 گلے کے سوجن کی ایک وجہ سٹراپھ کوسس پوٹے جینز نامی بیکٹیریا ہے جس کی ہلاکت کے لئے اینٹی بائیوٹک ادویات ضروری ہوتی ہیں۔ لیکن ایسی ادویات استعمال سے قبل ڈاکٹر کے مشورے میں ضرور جانا چاہیے۔

پیٹ میں گیس اور اس کا آسان علاج

بعض اوقات نظام انہضام کی بے قاعدگی کی وجہ سے معدے میں گیس جمع ہو جاتی ہے جوکہ سخت بے چینی اور تکلیف کا باعث بنتی ہے اس مسئلے کا قدرتی حل بہت آسان اور سادہ ہے جوکہ دراصل روزمرہ کی کچھ غذائی اشیاءمیں ہی پوشیدہ ہے۔ اس سلسلہ میں صنوبر کا پھل جو کہ چھوٹی چھوٹی گولیوں کی صورت میں ہوتا ہے انتہائی مفید ہے کھانے کے بعد اسے حسب ضرورت چبالینا چاہیئے پیٹ کے مسائل خصوصاََ گیس اور درد وغیرہ کیلئے سونف کے استعمال ایک آزمودہ نسخہ ہے یہ گردوں اور جگر کیلئے بھی مفید ہے۔ہاضمے کو درست رکھنے کیلئے الائچی بھی فائدہ مند ہے اسے سبزیوں اور چاولوں میں پکاتے وقت ڈالا جاسکتا ہے یا چائے اور قہوے میں ڈال کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ گیس کو ختم کرتا ہے اور دھنیا نہ صرف خوشبو اور ذائقے کے ساتھ ہاضمے کو تیز کرتا ہے بلکہ گیس اور ہچکیوں سے بھی نجات دلواتا ہے اسے کھانا پکاتے وقت ساتھ شامل کیا جاسکتا ہے پیٹ میں گڑبڑ اور گیس کا ایک اچھا علاج لیمن بھی ہے کھانے کے بعد ایک کپ پانی میں ایک چمچ لیمن کا جوس اور آدھا چمچ بیکنگ سوڈا ڈال کر استعمال کریں ہاضمے اور خصوصاََگیس کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ہلدی بھی انتہائی مفید ہے اسے سبزیوں یا چاولوں میں ڈال کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

معدے اور آنتوں کی گیس کا کامیاب دیسی نسخہ

دیسی نسخے
اگر آپ کا پیٹ پھولاہوارہتاہے یا سینے میں جلن،قبض اور گیس رہتی ہے تو اسے معمولی نہ لیں کیونکہ یہ Helicobacter pylorusبیکٹیریا کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔دنیا بھرمیں دوتہائی افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں اوریہ گندے کھانے اور پانی کی وجہ سے منتقل ہوتا ہے۔اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تویہ معدے کا کینسر اور السرکا باعث بھی بنتا ہے۔اس بیکٹیریا کی وجہ سے انسان نہ صرف معدے کی بیماری میں مبتلاہوجاتا ہے بلکہ دیگر بیماریاں جیسے سردرد،دل کے امراض اور ڈپریشن ہوسکتی ہیں۔
اچھی بات یہ ہے کہ اگربروقت اس کا علاج شروع کردیا جائے تو اس سے نجات ممکن ہوتی ہے۔آپ کو چاہیے کہ اپنے معالج سے مشورہ کرنے کے ساتھ اپنی غذا میں تبدیلی کریں۔ایسی غذائیں جن میں وٹامن اے،سی ،ای اورزنک شامل ہوں کا استعمال بڑھا دیں۔آپ چاہیں تو گیس سے نجات کے لئے ذیل میں دئیے ہوئے نسخہ کو آزما سکتے ہیں۔
ایک لیموں
ایک کھیرا
ایک چائے کا چمچ ادرک پسا ہوا
دھنیا یا parsleyتھوڑاسا
آدھ گلاس پانی
تمام اجزاءکو ایک بلینڈر میں ڈال کر اچھی طرح پیس لیں اور اس مشروب کو پی لیں۔یہ مشروب نہ صرف معدے کو Helicobacter pylorusسے پاک کرے گا بلکہ یہ پیٹ کی چربی کے لئے بھی بہت مفید ہے اور اسے پیتے ہی آپ کو جسم میں خوشگوار تبدیلی کا احساس ہوگا۔اس کے علاوہ آپ کو چاہیے زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں

سائنسدانوں نے کاجو کا ایک ایسا فائدہ بتا دیا کہ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہاءنہ رہے گی

سائنسدانوں نے کاجو کا ایک ایسا فائدہ بتا دیا کہ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہاءنہ رہے گی


گر آپ ذہنی دباﺅ کو کم کرنے کے لئے مختلف طرح کی ادویات استعمال کرکے تنگ آچکے ہیں تو آئیے آپ کو اس مشکل کے حل کے لئے ایک قدرتی میوہ بتاتے ہیں۔اس میوے کو کاجو کے نام سے جانا جاتا ہے جس میں قدرتی طور پر یہ خاصیت موجود ہے کہ اس کے استعمال سے ڈپریشن کم ہوجاتا ہے۔

کاجومیں وٹامن،فائبر،منرلزاور دیگر اجزاءپائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے کئی خطرناک بیماریاں جیسے کینسر سے بچاجاسکتا ہے۔یہ میوہ نائیجیریا،تنزانیہ،موزمبیق اور برازیل میں وافر مقدار میں پیدا ہوتا ہے اور دنیا بھر میں لوگ اس کے دیوانے ہیں۔کاجو میں tryptophanپایا جاتا ہے جو ہمارے موڈ کو قابو میں رکھتا ہے ۔اس کی موجودگی سے ہمارا ذہنی دباﺅ کم ہوتا ہے اورہمیں اچھی نیندآتی ہے اور اسی کی موجودگی کی وہ سے بچوں کی نشوونما بہتر ہوتی ہے۔کئی ایسی ادویات جو ڈپریشن کو کم کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں میں کاجو کی کچھ نہ کچھ مقدار موجود ہوتی ہے

کاجو میں کئی منرلز جیسے پوٹاشیم، میگنیز،کاپر،سیلینیم ،میگنیشیم،زنک اور آئرن پایا جاتا ہے ۔کاجو کی تھوڑی سی مقدار سے ہمارے جسم کو قیمتی دھاتیں مل جاتی ہیں۔کاجو میں پائے جانے والے کاپر اور زنک کی وجہ سے انسانی نشوونما میں مدد ملتی ہے اور اسی لئے یہ بڑھتے ہوئے بچوں کے لئے انتہائی اہم غذا ہے۔مزید برآں کاجو میں کچھ ایسے فیٹی ایسڈ پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے جسم میں اچھے کولیسٹرول کی مقدار بڑھتی ہے اور دل بھی مضبوط ہوتا ہے اور دل کے دورے کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔

عمر کے کس حصے میں کیا کھانا چاہئے؟ صحت مند زندگی گزارنے کے لئے انتہائی مفید معلومات

عمر کے کس حصے میں کیا کھانا چاہئے؟ صحت مند زندگی گزارنے کے لئے انتہائی مفید معلومات
عمر کے مختلف حصوں میں ہمارے جسم کی غذائی ضروریات بھی مختلف ہوتی ہیں، اس لئے ضروری نہیں کہ جو خوراک نوعمر لوگوں کیلئے بہت اچھی ہے وہی بزرگوں کی ضرورت بھی پوری کرتی ہو۔ جریدے 146ڈیلی میل145 نے ماہرین غذائیت سے اس سلسلہ میں تفصیلی بات کی تو انہوں نے بتایا کہ بچپن، جوانی اور بڑھاپے میں مختلف قسم کی غذاﺅں کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا اہتمام کیا جائے تو یقیناً صحت قابل رشک رہے گی۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ نوعمر اور 20 سے 30 سال عمر کے لوگوں کو ہڈیاں مضبوط بنانے کیلئے کیلشیم کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے لہٰذا انہیں دودھ کا بکثرت استعمال کرنا چاہیے اور پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کیلئے گوشت اور لوبیے جیسی غذاﺅں کا بھی زیادہ استعمال کرنا چاہیے۔ 30 سال کی عمر کے بعد جسمانی طاقت اور توانائی میں بتدریج کمی کا دور شروع ہوجاتا ہے لہٰذا ان لوگوں کو اپنی غذا میں بادام اور دیگر خشک میوہ جات کا استعمال بڑھانا چاہیے اور اپنی طاقت کو مستحکم رکھنے کیلئے اناج کا استعمال بھی بڑھانا چاہیے۔ 40 سال کی عمر کے بعد چکنائی والی غذائیں بہت کم کردیں، باداموں کا استعمال جاری رکھیں، سبزیاں اور پھل اپنی غذا میں شامل کریں اور یاد رکھیں کہ بڑھتی عمر کے ساتھ بھی آپ کو کیلشیم کی مستقل ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا دودھ اور دہی جیسی غذا کا استعمال بھی ضرور کریں۔

مونگ پھلی کھانے سے امراض دل سے بچاو اور عمر میں اضا فہ ممکن

مونگ پھلی کھانے سے امراض دل سے بچاو اور عمر میں اضا فہ ممکن
طبی ماہرین نے کہا ہے کہ معمول کے ساتھ مونگ پھلی کھانے والے افراد میں عارضہ قلب کے امکانات کم اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔مونگ پھلی کی افادیت کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں مونگ پھلی کے استعمال کو لمبی عمر کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ مونگ پھلی اور گری دار خشک میوے کھانے والے لوگوں میں عارضہ قلب سے ہونے والی اموات کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔امریکہ کی یونیورسٹی سکول آف میڈیسن سے وابستہ محقق ڈاکٹر ژاﺅ او شو نے کہا کہ ہماری تحقیق میں مونگ پھلی کھانے سے قلبی فوائد ظاہر ہوئے ہیں،جن لوگوں نے خشک میوے کے طور پرمونگ پھلی کھائی تھی ان میں مطالعے کی مدت کے دوران موت کا خطرہ ایسے لوگوں کی نسبت کم تھا جنھوں نے خشک میوہ کم استعمال کیا تھا یا بالکل نہیں کھایا تھا۔


ژاﺅ او شو نے کہا کہ مونگ پھلی اگرچہ خشک میوہ نہیں ہے اور اس کی درجہ بندی پھلی کے طور پر کی جاتی ہے لیکن اس کے غذائی اجزاءخشک میوے سے ملتے جلتے ہیں۔انھوں نے تجویز کیا ہے کہ جن لوگوں کو مونگ پھلی سے الرجی نہیں انھیں دل کی صحت کے فوائد کے لیے زیادہ سے زیادہ مونگ پھلی کھانی چاہئے جو دوسرے میووں کے مقابلے میں سستی بھی ہے۔ امریکی طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مونگ پھلی میں دیگر میوہ جات کی طرح انسانی صحت کے لیے بے شمار طبی اور غذائی فوائد چھپے ہیں اس میں اعلیٰ درجہ کی پروٹین وافر مقدار میں موجود ہے جبکہ مونگ پھلی کا مفید روغن ،وٹامن ای ،نمکیات ،فائبر دل کی بیماریوں کے لیے قوت مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں۔

مکئی کے فائدے جان کر آپ مکئی کھانا شروع کر دیں گے

مکئی کے فائدے جان کر آپ مکئی کھانا شروع کر دیں گے
فائبر حاصل کرنے کا سستہ ترین ذریعہ

موسم گرما کے اختتام پر مکئی کی فصل تیار ہوچکی ہوتی ہے۔یہ وہ موسم ہوتا ہے جب بازاروں میں مکئی کے بھٹے فروخت کرنے والے امڈآتے ہیں کوئی نمک میں بھٹہ بھون رہاہے تو کوئی ریت میں پکاکر انہیں فروخت کررہا ہے۔خوراک میں نشاستہ کی زیادہ مقدار قولون کینسر،کولیسٹرول اور آئی بی ایس کے خطرات کم کرنے کاموجب بنتی ہے۔مکئی میں یہ خاصیت موجود ہے کہ اگر آپ دن میں ایک بھٹہ یا پھر ایک کپ مکئی کااستعمال کریں تو اس سے18.4فیصد فائبر حاصل کرسکتے ہیں جس سے بلڈشوگر کو مستحکم کرنے میں مدد حاصل ہوتی ہے۔مکئی کے بھُٹے کے مترادف اور کوئی سبزی نہیں ہے جواس موسم کے مطابق لذت اور غذائیت سے فیض یاب کرتی ہو مکئی کاایک سٹہ بھی وہ کمال دکھاتا ہے جوشایدہی کوئی اور دکھاتا ہو۔مکئی کاشمار اناج کی اس قسم میں ہوتا ہے جوسال کے آغاز سے اختتام تک مارکیٹ میں باآسانی دستیاب رہتی ہے۔
مکئی کے چونکادینے والے فوائد
اطباء کے نزدیک بادی اور قابض ہے بھوک بڑھاتی اور بدن کوفربہ کرتی ہے۔بلغم صفرااور باد کے فساد کودور کرتی ہے۔زیادہ استعمال کرنے سے درد شکم قولنج اور بواسیر کی شکایت ہوجاتی ہے۔کھانے کے بعد ہونے والی قے کوروکتی ہے۔سل کے مریضوں میں اس کی روٹی اچھی ہے۔ آنکھوں کی بصارت بڑھاتی ہے،کمزور لاغربدن کوقوت دیتی ہے۔ اس کے آتے کالپٹا بناکر مریض کوپلانے سے صحت ہوتی ہے اور بھوک میں خوب اضافہ ہوتا ہے۔مکئی کاتیل بدن کوفربہ کرتا ہے۔اچھی مکئی کے کھانے سے بدن فربہ ہوتا ہے لیکن جس کوموافق نہ آئے اس کولگاتار کھانے سے دست آنے لگتے ہیں۔اس کے پومل یاکھیلیں مریض کوہرگز نہ کھلائے جائیں اس کی گلی کاکوئلہ کرکے اور پیس کرپھانکنا حیض اور بواسیر کے خون کوبندکرتا ہے۔مکئی کی گُلی چھ ماشہ ہیضہ کے مریض کوپیس کردیں تو فوراََ فائدہ ہوتا ہے۔اس کی گُلی کی راکھ میں نمک ملاکر پھنکی لگانے سے کالی کھانسی اور زکام کی کھانسی کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔اسے دن میں پانچ پانچ رتی تین مرتبہ دیتے ہیں۔اس کی ڈاڑھی کاجوشاندہ یا خیساندہ پلانے سے مثانہ کے امراض اور پیشاپ کی جلن دور ہوتی ہے اور پیشاپ خوب آتا ہے۔یونانی اطباء کے مطابق مکا بلغم اورخون بستہ کو تحلیل کرتی ہے۔اس کاآٹا سرکے میں ملاکر لیپ کرنے سے خارش اور ہاتھ پاؤں وناخنوں کے پھٹنے کوروکنے میں مفید ہے۔اس کے جوشاندہ کاحقنہ آنتوں کے زخم کودور کرتا ہے اس میں غذائیت گیہوں سے کم ہے۔ماہرین کے مطابق جولوگ مکئی کااستعمال کرتے ہیں ان مین بلڈشوگر145انسولین کی مقدار مناسب حدتک کنٹرول کی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے ماہرین نے دوایسے گروپس میں شامل افراد کا موازنہ کیا جا ٹائپ ٹوذیابیطس میں مبتلا تھے۔ایک گروپ نے فائبر(نشاستہ) پر مشتمل غذا کااستعمال کیا جبکہ دوسرے گروپ نے کم نشاستہ والی غذااستعمال کی گئی۔پہلے گروپ میں صحت کی جانب سے مثبت نتائج ظاہر ہوئے کیونکہ ان افراد نے چوبیس گرام تک فائبر روزانہ استعمال کیا جبکہ دوسرے گروپ میں کولیسٹرول اور بلڈشوگر کی شکایات بدستورجاری رہیں۔مکئی کوپاپ کارن145سوپ سلاداور سالن وغیرہ میں پکایاجاتا ہے اور ایک طرح سے اس کوگرمیوں میں باربی کیوکے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ذیابیطیس کی دس خاموش علامتیں ۔ اہم معلومات

 ذیابیطیس کی دس خاموش علامتیں 
ذیابیطس دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ایک بیماری کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے اور حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اکثر اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا۔

تاہم اس مرض کا شکار ہونے کی صورت میں کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جس سے عندیہ ملتا ہے کہ آپ کو اپنا چیک اپ کروا لینا چاہئے تاکہ ذیابیطس کی شکایت ہونے کی صورت میں اس کے اثرات کو آگے بڑھنے سے روکا جاسکے۔

تو ایسی ہی خاموش علامات کے بارے میں جانیے جو آپ کو اس مرض میں مبتلا ہونے کی صورت میں باخبر کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

ٹوائلٹ کا زیادہ رخ کرنا
جب آپ ذیابیطس کے شکار ہوجائیں تو آپ کا جسم خوراک کو شوگر میں تبدیل کرنے میں زیادہ بہتر کام نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں دوران خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور جسم اسے پیشاب کے راستے باہر نکالنے لگتا ہے، یعنی ٹوائلٹ کا رخ زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اس مرض کے شکار اکثر افراد اس خاموش علامت سے واقف ہی نہیں ہوتے اور نہ ہی اس پر توجہ دیتے ہیں۔ خاص طور پر رات کو جب ایک یا 2 بار ٹوائلٹ کا رخ کرنا تو معمول سمجھا جاسکتا ہے تاہم یہ تعداد بڑھنے اور آپ کی نیند پر اثرات مرتب ہونے کی صورت میں اس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

معمول سے زیادہ پیاس لگنا
بہت زیادہ پیشاب کرنے کے نتیجے میں پیاس بی زیادہ محسوس ہوتی ہے اور ذیابیطس کے مریض افراد اگر جوسز، کولڈ ڈرنکس یا دودھ وغیرہ کے ذریعے اپنی پیاس کو بجھانے کی خواہش میں مبتلا ہوجائیں تو یہ خطرے کی علامت ہوسکتی ہے۔ یہ میٹھے مشروبات خون میں شکر کی مقدار کو بڑھا دیتے ہیں جس کے نتیجے میں پیاس کبھی ختم ہونے میں ہی نہیں آتی۔

جسمانی وزن میں کمی
جسمانی وزن میں اضافہ ذیابیطس کے لیے خطرے کی علامت قرار دی جاتی ہے تاہم وزن میں کمی آنا بھی اس مرض کی ایک علامت ہوسکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق جسمانی وزن میں کمی دو وجوہات کی بناءپر ہوتی ہے، ایک تو جسم میں پانی کی کمی ہونا (پیشاب زیادہ آنے کی وجہ سے) اور دوسری خون میں موجود شوگر میں پائے جانے والی کیلیوریز کا جسم میں جذب نہ ہونا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کا علم ہونے کی صورت میں جب لوگ اپنے بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنا شروع کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں وزن بڑھ سکتا ہے مگر یہ اچھا امر ہوتا ہے کیونکہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ بلڈ شوگر ک لیول زیادہ متوازن ہے۔

کمزوری اور بھوک کا احساس
یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں کہ ذیابیطس کے مریضوں کو اچانک ہی بھوک کا احساس ستانے لگے اور ان کے اندر فوری طور پر زیادہ کاربوہائیڈیٹ سے بھرپور غذا کی خواہش پیدا ہونے لگے۔ بی ماہرین کے مطابق جب کسی فرد کا بلڈ شوگر لیول بہت زیادہ ہوا تو جسم کے لیے گلوکوز کو ریگولیٹ کرنا مسئلہ بن جاتا ہے، جس کے نتیجے میں جب آپ کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا استعمال کرتے ہیں تو مریض کا جسم میں انسولین کی مقدار بڑھ جاتی ہے جبکہ گلوکوز کی سطح فوری طور پر گرجاتی ہے جس کے نتیجے میں کمزوری کا احساس پیدا ہوتا ہے اور آپ کے اندر چینی کے استعمال کی خواہش پیدا ہونے لگتی ہے اور یہ چکر مسلسل چلتا رہتا ہے۔

ہر وقت تھکاوٹ
یقیناً تھکاوٹ تو ہر شخص کو ہی ہوتی ہے مگر ہر وقت اس کا طاری رہنا ذیابیطس میں مبتلا ہونے کی اہم علامت ثابت ہوسکتی ہے۔ ذیابیطس کا شکار ہونے کی صورت میں خوراک جسم میں توانائی بڑھانے میں ناکام رہتی ہے اور ضرورت کے مطابق توانائی نہ ہونے سے تھکاوٹ کا احساس اور سستی طاری رہتی ہے۔ اسی طرح ذیابیطس ٹائپ ٹو میں شوگر لیول اوپر نیچے ہونے سے بھی تھکاوٹ کا احساس غلبہ پالیتا ہے۔

پل پل مزاج بدلنا یا چڑچڑا پن
جب آپ کا بلڈ شوگر کنٹرول سے باہر ہوتا ہے تو آپ کو کچھ بھی اچھا محسوس نہیں ہوتا، ایسی صورت میں مریض کے اندر چڑچڑے پن یا اچانک میں غصے میں آجانے کا امکان ہوتا ہے۔ درحقیقت ہائی بلڈ شوگر ڈپریشن جیسی علامات کو ظاہر کرتا ہے، یعنی تھکاوٹ، ارگرد کچھ بھی اچھا نہ لگنا، باہر نکلنے سے گریز اور ہر وقت سوتے رہنے کی خواہش وغیرہ۔ ایسی صورتحال میں ڈپریشن کی جگہ سب سے پہلے ذیابیطس کا ٹیسٹ کرالینا زیادہ بہتر ثابت ہوتا ہے خاص طور پر اس وقت جب اچانک مزاج خوشگوار ہوجائے کیونکہ بلڈ شوگر لیول نارمل ہونے پر مریض کا موڈ خودبخود نارمل ہوجاتا ہے۔

بنیائی میں دھندلاہٹ
ذیابیطس کی ابتدائی سطح پر آنکھوں کے لینس منظر پر پوری طرح توجہ مرکوز نہیں کرپاتے کیونکہ آنکھوں میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں عارضی طور پر اس کی ساخت یا شیپ بدل جاتی ہے۔ چھ سے آٹھ ہفتے میں جب مریض کا بلڈ شوگر لیول مستحکم ہوجاتا ہے تو دھندلا نظر آنا ختم ہوجاتا ہے کیونکہ آنکھیں جسمانی حالت سے مطابقت پیدا کرلیتی ہیں اور ایسی صورت میں ذیابیطس کا چیک اپ کروانا ضروری ہوتا ہے۔

زخم یا خراشوں کے بھرنے میں تاخیر
زخموں کو بھرنے میں مدد دینے والا دفاعی نظام اور پراسیس بلڈ شوگر لیول بڑھنے کی صورت میں موثر طریقے سے کام نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں زخم یا خراشیں معمول سے زیادہ عرصے میں مندمل ہوتے ہیں اور یہ بھی ذیابیطس کی ایک بڑی علامت ہے۔

پیروں میں جھنجھناہٹ
ذیابیطس کی شکایت دریافت ہونے سے قبل بلڈ شوگر میں اضافہ جسمانی پیچیدگیوں کو بڑھا دیتا ہے ۔ اس مرض کے نتیجے میں اعصابی نظام کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور اس کے نتیجے میں آپ کے پیروں کو جھنجھناہٹ یا سن ہونے کا احساس معمول سے زیادہ ہونے لگتا ہے کہ جو کہ خطرے کی گھنٹی ہوتا ہے۔

مثانے کی شکایات
پیشاب میں شکر کی زیادہ مقدار بیکٹریا کے افزائش نسل کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں مثانے کے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بار بار انفیکشن کا سامنے آنا فکرمندی کی علامت ہوسکتی ہے اور اس صورت میں ذیابیطس کا ٹیسٹ لازمی کرالینا چاہئے کیونکہ یہ اس مرض میں مبتلا ہونے کی بڑی علامات میں سے ایک ہے۔

انسان کو کون سا رنگ متاثر کرتا ہے؟


عمومی طورپر ہمیں اس چیز کا اندازہ نہیں ہوتاکہ ٹریفک سگنل کے علاوہ بھی رنگوں کا ہماری زندگی میں عمل دخل ہے تاہم اب ایک تحقیق نے ثابت کیاہے کہ سرخ رنگ انسانوں کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والا رنگ ہے جو دفتر میں آپ کے کام سے لے کر ذاتی تعلقات تک کو متاثر کرتا ہے۔ سرخ رنگ کے مختلف شیڈز کو اقتدار، جارحیت اور جنس کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ رنگوں کی نفسیات کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ سرخ رنگ کا ہمارے موڈ، خیالات اور کام پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ یہ رنگ زیب تن کرنے سے آپ کی حرکات و سکنات اور ہارمون کے توازن پر اثر ہوتا ہے جبکہ بہت سے جانور مثلاً کتے سرخ اور سبز رنگوں میں تمیز نہیں کرپاتے۔ بعض فیشن ماہرین کے مطابق لال ٹائی پہننے سے دفتر میں اثر و رسوخ اور باختیار ہونے کا احساس ہوتا ہے تاہم سرخ رنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی جارحیت کے منفی اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔

دن کا ذیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے



یہ تو اکثر افراد کو معلوم ہے کہ دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا موٹاپے، ذیابیطس اور ذہنی امراض کا باعث بن سکتا ہے مگر یہ عادت آپ کے جگر کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔اس بات کا انکشاف جنوبی کوریا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں ہوا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا یا سست طرز زندگی دونوں جگر بڑھنے یا اس پر چربی چڑھنے کے امراض کا باعث بن سکتے ہیں۔طبی جریدے جرنل آف ہیپاٹولوجی میں شائع تحقیق کے مطابق جو لوگ دن میں دس یا اسسے زائد گھنٹے بیٹھ کر گزارتے ہیں ان میں جگر کے امراض کا خطرہ 9 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔اس کے مقابلے میں جسمانی طور پر متحرک ہونا جیسے روزانہ کم از کم دس ہزار قدم چلنا جگر کے امراض کا خطرہ 20 فیصد تک کم کردیتا ہے۔اس تحقیق کے دوان ڈیڑھ لاکھ کے قریب مرد و خواتین کا جائزہ لیا گیا جن کی اوسط عمر 40 سال کے لگ بھگ تھی اور نتائج سے معلوم ہوا کہ 35 فیصد جگر کے امراض کا شکار ہیں۔محققین کے مطابق ہمارا جسم حرکت کرنے کے لیے ڈیزائن ہوا ہے اور یہ حیرت انگیز نہیں کہ سست طرز زندگی براہ راست ہمارے جسمانی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے۔ان کے بقول جگر کے امراض کے علاج کے حوالے سے بہت زیادہ ادویات موجود نہیں لہذا طرز زندگی میں معمولی سی تبدیلی ہی اس کا بہترین علاج ہے۔انہوں نے اس حوالے سے ہر ہفتے 150 منٹ متعدل ورزش یا روزانہ 10 ہزار قدم چلنے کی تجویز بھی دی۔

ایک پھل جو جادوئی انداز میں آپ کی خون کی شریانیں صاف کرنے اور چربی پگھلانے کی صلاحیت رکھتا ہے


ایک پھل جو جادوئی انداز میں آپ کی خون کی شریانیں صاف کرنے اور چربی پگھلانے کی صلاحیت رکھتا ہے



 

قدرت نے بہت سے پھل پیدا کئے ہیں اور ہر ایک کا اپنا فائدہ ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک پھل ایسا بھی ہے جسے کھانے سے آپ کے خون کی شریانیں نہ صرف صاف ہوجائیں گی بلکہ اس میں چربی پگھلانے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ اس پھل کا نام انار ہے جو آئرن سے بھرپور ہے اور اس کے باقاعدہ استعمال سے آپ کی خون شریانیں بالکل صاف ہوجائیں گی۔
چوہوں پر کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات دیکھی گئی کہ انار کے استعمال سے ان کا دل مضبوط ہوااور ان کے دل کی کارکردگی میں بہتری آئی۔سائنسدانوں نے مختلف تجربات میں انار کے انسانی صحت پر اثرات جاننے کی کوشش کی اور یہ باتیں سامنے آئیں کہ اس کے استعمال سے دل کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں،رفتار میں اعتدال آتا ہے اوردھڑکن بہتر رہتی ہے۔دو دفع نوبل انعام یافتہ لائنس پاﺅلنگ کا کہنا ہے کہ دل کے کمزور ہونے اور دیگر امراض کی وجہ وٹامن سی کی کمی ہے۔2004ءمیں کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ انار کے استعمال سے بلڈ پریشر بھی کم رہتا ہے اور ساتھ ہی دل کی انفیکشن اور سوجن سے نجات ملتی ہے۔انار بیکٹیریا اور وائرل انفیکشن کو ختم کرکے دل کو مضبوط کرتا ہے ،انار میں موجود انٹی آکسیڈینٹس کی وجہ سے برے کولیسٹرول میں کمی ہونے کے ساتھ اچھا کولیسٹرول بڑھتا ہے جس سے کولیسٹرول کی مقدار خون میں اعتدال میں رہتی ہے۔

شہد اور اخروٹ کو ملا کر کھانے کا ایک نسخہ جو آپ کو صحت کے کئی سنگین مسائل سے مکمل نجات دلاسکتا ہے

شہد اور اخروٹ کو ملا کر کھانے کا ایک نسخہ جو آپ کو صحت کے کئی سنگین مسائل سے مکمل نجات دلاسکتا ہے

آپ نے شہد کے فوائد کے بارے میں تو بہت کچھ سن رکھا ہوگا اور اسی طرح آپ کو اخروٹ کی افادیت کا بھی علم ہوگا لیکن اگر ان دونوں اشیاء کو ملا کر کھایا جائے تو اس کے ان گنت فوائد ہیں اور یہ کئی بیماریوں کے خلاف بہت اچھے طریقے سے کام کرتے ہیں۔
ان دونوں اشیاء کو ملا کر کھانے سے وٹامن، منرلز،پروٹین، لحمیات اور کاربوہائیڈریٹس حاصل ہوتے ہیں۔آدھ کلو شہد لے کر اس میں آدھ کلو پسے ہوئے اخروٹ مکس کریں اور ساتھ ہی اس میں لیموں کا رس بھی ملا لیں۔اس مکسچر کو کسی شیشے کے جار میں رکھ لیں اور دن میں تین بار ایک چمچ کھائیں۔
اگر آپ کو ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ درپیش ہوتوسردیوں میں 100گرام شہد اور اخروٹ کھائیں۔اگر آپ کے سر میں درد ہوتو ادویات کھانے کی بجائے اس مکسچر کے ایک سے دو چمچ دن میں کھائیں،اس کی وجہ سے آپ کی یاداشت بھی مضبوط ہوگی۔
اگر آپ کو معدے میں السر کی تکلیف ہوتو 20گرام پسے ہوئے اخروٹ لے کر اسے ابلتے ہوئے پانی میں ڈالیں اور اس مکسچر کو چھان لیں اور اس میں دو چمچ شہد کے ڈالیں۔کھانے سے آدھ گھنٹہ قبل اس مکسچر کے دن میں دو سے تین چمچ کھائیں۔

کیا آپ اپنے موٹاپے سے پریشان ہیں ۔ اسے ضرور پڑھ لیجیے

آج دنیا میں ہر کوئی موٹاپے کی وجہ سے پریشان دکھائی دیتا ہےاور وزن کم کرنا چاہتا ہے لیکن لاکھ کوشش کے باوجود اپنا وزن کم نہیں کر پاتا۔ آئیے ہم آپ کو بغیر ورش اور بغیر کم کھائے وزن کم کرنے کے مفید مشورے بتاتے ہیں
ایک آدمی بغیر حرکت کیے بائس سو2200 اور ایک عورت روزانہ تقریبا اٹھارہ سو 1800 کیلوریز خارج کرتا ہے یا جلاتا ہے
اگر آپ اس سے زیادہ کیلوریز کھائیں گے تو وزن بڑھے گا اور اس سے کم کھائیں گے تو وزن کم ہو گا
بعض لوگ صبح ناشتہ کر کے شام کو کھانا کھاتے ہیں یاد رکھیے اس سے بھی وزن بڑھتا ہے۔ کیوںکہ جب بھوکا ہوتا ہے اور آپ کھاتے ہیں تو جب آپ آٹھ گھنٹے بعد کھائیں گے تو جسم آپ کے کھانے سے شکر لے کر جمع کر لیتا ہے جو چربی بن جاتا ہے۔ کیوںکہ آپ کا سستم آپ کے سٹور کرنے والے فنکشن کو یہ سنگنل بھجتا ہے کہ اس نے پھر آٹھ گھنٹے بعد کھانا ہے اس لیے اسے جمع کر لو۔
اس لیے آپ ہر تین یا چار گھنٹے کچھ نا کچھ کھاتے رہیں چاہے دو عدد بسکٹ ہی کیوں نہ ہوں ۔ یاد رکھیں شام کا کھانا جتنا مرضی کھائیں لیکن دن میں کچھ نہ کچھ کھاتے رہیں
ناشتے کے بعد شام کے کھانے تک آپ ایک مرتبہ کوئی تھوڑا سا فروٹ اور پھر تیں گھنٹے بعد ایک یا دو بریڈ کے پیس جتنا ضرور کھائیں
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اپ دن بھر دو آدمیوں کا کھانا کھا جائیں
یاد رکھیں ایک صحت مند آدمی کے لیے روزانہ 12000 قدم چلنا بہت ضروری ہے
یہ آپ کے دن بھر کے کام کے علاوہ ہے۔ اگر آپ نے 3000 کیلوریز کھا لی ہے تو اسے جلانے کے لیے 12000 قدم چلیں تو بمشکل 500 کیلوریز جلتی ہیں آپ خود اندازہ کر لیں کے کہ اس طرح آپ کا وزن کیسے کنٹرول ہوگا۔ 3500 کیلوریز جلانے سے آدھا کلو وزن کم ہوتا ہے
مذید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
معزز قارئین اكرام اس بلاگ كا مقصد آپ كو دیسی ٹوٹكے اور گریلو علاج كے روائتی طریقہ كار سے آگاہ كرنا ہے. یہ نسخہ جات اور ٹوٹكے آپ كی دلچسپی كے لیے مختلف جرائد و رسائل سے پیش كیے جاتے ہیں. استعمال میں خرابی كی صورت میں آپ خود ذمہ دار ہیں
اگر آپ دیسی ٹوٹكے شئیر كرنا چاہتے ہیں یا كچھ پوچھنا چاہتے ہیں تو میل كیجیے
siden1993@gmail.com