متعلقہ بیماری کا نام لکھ کر تلاش کریں

لہسن کے پوشیدہ فوائد







) ہمارے کھانوں میں لہسن بہت ذیادہ رغبت سے استعمال کیا جاتا ہے لیکن کھانوں میں ذائقے کے علاوہ بھی اس کے کئی فوائد ہیں جبکہ متعدد اور خطرناک بیماریوں کے لئے بھی اس کو بہت کارآمد پایا گیا ہے۔٭زکام:
سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی زکام بہت تیزی پھیلتا ہے اور ہر شخص نزلہ و زکام کی شکایت کرتا ہے۔اگر لہسن کھایا جائے تو جسم کا مدافتی نظام بہتر ہوتا ہے اور نزلہ و زکام کا احتمال کم ہو جاتا ہے ۔
٭کیل مہاسے:
اکثر لوگ کیل مہاسوں سے بچنے کے لئے لہسن کو ان کے مہاسوں پر رگڑتے ہیں ۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ اس سے بہت فرق پڑتا ہے ۔ اگر لہسن کو کھا بھی لیا جائے تو یہ مہاسوں کو ٹھیک کرتا ہے۔
٭جراثیم کے خلاف مو¿ثر :
مختلف قسم کے نقصان دہ بیکٹیریا لہسن کے استعمال سے مر جاتے ہیں، اگر لہسن مستقل استعمال کیا جائے تو جسم توانا رہتا ہے۔
٭گرتے بالوں کا علاج:
اگر لہسن کو ایسی جگہ رگڑا جائے جہاں سے بال اڑ چکے ہوں تو اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ اس جگہ بال اگ آتے ہیں۔
٭جلد پر اثرات :
اگر آپ کو جلد کا مسئلہ درپیش ہو تو آپ کو لازمی لہسن استعمال کرنا چاہیے کیونکہ یہ جلد پر موجود جراثیم کو ختم کرتا ہے۔اگر آپ متاثرہ جلد کے حصے کو نیم گرم پانی اور لہسن کے محلول میں آدھ گھنٹے تک بھگو کر رکھیں تو آپ کی جلد نرم اور تازہ ہو جائے گی۔
٭ دل پر مثبت اثرات :
اگر آپ بلند فشار خون یا دل کے عارضے میں مبتلا یا اس سے بچنے خواہش مند ہیں تو لہسن کے استعمال ضرور کریں ۔ آپ اگر کچا لہسن کھاتے ہیں تو خون پتلا ہوگا اور آپ کا فشار خون(بلڈ پریشر) کم ہوگا۔
٭ کینسر سے بچاو¿: 
کینسر ایک خوفناک مرض ہے جو جسم میں گٹلیوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔جسم میں موجود پروٹین ایک خطرناک مادہ میں تبدیل ہو کر کینسر بناتی ہے اگر آپ لہسن کھاتے ہیں تو یہ اسے خطرناک مادہ بننے سے روک دیتا ہے۔
٭آئرن میں اضافہ:
اگر آپ لہسن استعمال کریں تو یہ خون میں ایک پروٹین بناتا ہے جو آئرن جذب کرتی ہے اور آپ کے جسم میں آئرن کی کمی واقع نہیں ہوتی۔
٭دانت کا درد:
ااگر آپ کے دانت میں درد ہے تو لہسن کو متاثرہ دانت پر رگڑیں ۔ اس طرح کرنے سے دانت میں درد کی وجہ سے جراثیم ختم ہو جاتے ہیں اور دانت کا درد کم ہو جاتا ہے۔
٭موٹاپے کا اعلاج:
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جسم میں فاسد مادوں کی موجودگی سے چربی بنتی ہے اور انسان موٹا ہو جاتا ہے لیکن اگر لہسن باقائدگی سے استعمال کیا جائے تو زہریلے مادے ختم ہوتے ہیںاور موٹاپا کم ہونا شروع ہو جائیگا۔
٭بانجھ پن میں مفید:
دنیا کے اکثر ممالک میں مانا جاتا ہے کہ لہسن کھانے سے بانجھ پن پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔
٭ذیابیطیس میں مفید: 
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ لہسن کھانے سے انسولین بننے میں مدد ملتی ہے اور یہ ذیابیطیس کے مریضوں کے لئے مفید ہیں۔
٭ہڈیوں کی مضبوطی :
لہسن کھانے سے جسم کے زہریلے مادے کم ہو تے ہیں۔خون میں آئرن کی مقدار بڑھتی ہے اور آپ کو ورزش کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔
مچروں سے نجات: 
اگر آپ مچھروں اور حشرات سے تنگ ہیں تو لہسن متاثرہ جگہ پر رکھ دیں ۔ تمام قسم کے کیڑے مکوڑے بھاگ جائیں گے۔
                                                                                                                      

بڑھاپے میں مچھلی کھائیں،بہرے پن سے نجات پائیں

ایک تحقیق کے مطابق ہفتے میں دوبار مچھلی کھانے کی عادت قوتِ سامعہ میں کمی کو روکتی ہے۔آئلی مچھلی جس میں سرڈائن، سلیمن اور میکیرل شامل ہیں ان میں بہت زیادہ میگاتھری فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں پہلے ہی پتا چل چکا ہے کہ امراض قلب، یادداشت کی کمی، کینسر، ڈپریشن اور آرتھرائٹس جیسے موذی امراض میں مفید ہیں جبکہ اب نئی تحقیق سامنے آ ئی ہے جس کے مطابق مچھلی کا استعمال بہرے پن کے امکانات کو کم کرتا ہے۔
امریکی محققین 1991ءسے 2009ءتک کے عرصے کے دوران 65275 نرسوں کی سٹڈی کا مطالعہ کیا جس عرصہ میں قوت سماعت کے نقصان کے 11606 مقدمات رپورٹ ہوئے تھے. اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ جو عورتیں ہفتے میں کم از کم دوبار مچھلی کھاتی تھیں ان میں سماعت کی کمی کے امکانات 20 فیصد کم ہیں۔ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ سماعت میں کمی کا مرض مریض کو اکثر معذور بنا دیتا ہے جو ایک خطرناک حالت ہے۔کسی بھی قسم کی مچھلی ہو خواہ ڈاک فش، لائٹ فش باشیلفش کوئی بھی مچھلی استعمال کی جائے اسے قوت سامعہ کے متوقع نقصان میں کمی ضرور ہوتی ہے اور بہرے پن کا خطرہ ٹلتا ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خوراک کا قوت سامعہ کی کمی میں بہت بڑا کردار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ مچھلی ضروری وٹامنز اور منرلز کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے اس لئے اگر اسے باقاعدگی سے بڑھاپے میں استعمال کیا جائے تو بہت سے خطرناک امراض سے بچاتی ہے۔اس سے قبل 2008ءمیں بھی ایک تحقیق سامنے آئی تھی جس نے یہ ثابت کیا تھا کہ ہفتے میں دوبار مچھلی کا استعمال بڑھاپے میں ہونے والے میکیولر ڈی جنریشن کے خطرے کو کم کرتا ہے جوبڑھاپے میں ہونے والے اندھے پن کی عام وجوہات میں سے ایک ہے۔

چہرے کی چمک دمک اور جلد کی تروتازگی کیلئے فیس ماسک

 چہرے کی چمک دمک اور جلد کی تروتازگی کیلئے فیس ماسک ایک اہم ضرورت بن چکی ہے۔ بازار میں دستیاب فیس ماسک نہ صرف مہنگے ہیں بلکہ اتنے موثر بھی نہیں جو آپ بآسانی گھر پر بناسکتے ہیں۔
٭ کیلے کا ماسک
آدھا کیلا، ایک انڈے کی سفیدی اور ایک چمچ دہی کو اچھی طرح مکس کرکے 15 منٹ کیلئے چہرے پر لگائیں اور پھر دھوئیں۔
٭ شہد اور لیموں کا ماسک
دو چمچ شہد اور دو چمچ لیموں کا رس مکس کرکے تقریباً آدھے گھنٹے کیلئے چہرے پر لگائیں۔
٭ کھیرے اور تربوز کا ماسک
دو مچمچ کھیرے کا جوس، دو چمچ تربوز کا جوس، ایک چمچ دہی اور ایک چمچ دودھ کا پاﺅڈر لے کر اچھی طرح ملالیں، اسے تقریباً 15 منٹ کیلئے لگائیں۔
٭ سورج مکھی ماسک
دو چمچ سورج مکھی کے بیج لے کر رات بھر دودھ میں بھگو کررکھیں، صبح اسے پیس کر 10 منٹ کیلئے چہرے پگ لگائیں۔
٭ دہی کا ماسک
ایک چمچ دہی میں ایک چمچم نیم گرم شہد ملالیں، اسے 15 منٹ کیلئے لگانا چاہیے۔
٭ دودھ کا ماسک
تین چمچ دودھ، ایک چمچم لیموں کا رس اور تھوڑی سی ہلدی لے کر اچھی طرح ملالیں، اسے چہرے پر لگانے کے بعد خشک ہونے کا انتظار کریں اور پھر دھولیں۔
٭ مالٹے کے چھلکے اور دہی کا ماسک
مالٹے کے چھلکوں کو دھوپ میں سکھا کر پیس لیں اور اس میں 2 چمچ دہی ڈال کر مکس کرلیں، اسے آدھا گھنٹے کیلئے چہرے پر لگائیں۔
٭ بالائی اور زعفران کا ماسک
زعفران کو دودھ میں رات بھر بھگوکر رکھیں صبح زعفران میں 2چمچ بالائی مکس کرلیں، اسے 15 منٹ کیلئے لگائیں اور اس کے بعد گیلے کپڑے سے صاف کریں

کیڑے مکوڑوں سے بچاﺅ کے آسان طریقے

کیڑے مکوڑوں سے بچاﺅ کے آسان طریقے
برمنگھم (نیوز ڈیسک) اگر آپ کے گھر میں اور خصوصاً باورچی خانے میں کیڑیوں کا آنا جانا شروع ہوجائے تو ان سے نجات مشکل ہوجاتی ہے، مگر مندرجہ ذیل گھریلو ٹوٹکوں کے استعمال سے یقیناً یہ کام بہت آسان ہوجاتا ہے۔
-1 چینی کو پیس کر بیکنگ سوڈے کے ساتھ مکس کریں اور کیڑیوں کی گزرگاہ کے ساتھ ساتھ چھڑک دیں، کیڑیاں اسے کھائیں گے اور دنیا سے رخصت ہوجائیں گی۔
-2 کیڑیاں جہاں سے نمودار ہوتی ہوں وہاں سرکہ چھڑک دیں، کیڑیاں بھاگ جائیں گی۔
-3 عام نمک کو پانی میں حل کرکے کیڑیوں والی جگہ پر سپرے کریں، کیڑیاں غائب ہوجائیں گی۔
-4 صابن (خصوصاً برتن دھونے والا) کو پانی میں مکس کرکے سپرے کردیں۔
-5 لیموں کا جوس بھی کیڑیوں کو بھگانے کیلئے کارگر ہے، لیموں کا رس پانی میں ڈال کر متاثرہ جگہ پر سپرے کریں۔
معزز قارئین اكرام اس بلاگ كا مقصد آپ كو دیسی ٹوٹكے اور گریلو علاج كے روائتی طریقہ كار سے آگاہ كرنا ہے. یہ نسخہ جات اور ٹوٹكے آپ كی دلچسپی كے لیے مختلف جرائد و رسائل سے پیش كیے جاتے ہیں. استعمال میں خرابی كی صورت میں آپ خود ذمہ دار ہیں
اگر آپ دیسی ٹوٹكے شئیر كرنا چاہتے ہیں یا كچھ پوچھنا چاہتے ہیں تو میل كیجیے
siden1993@gmail.com